پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کو جادو یا جن سمجھ لینا: پاکستان میں غلط فہمیاں

Sehatyab

July 1, 2025

A pakistani male suffered from PTSD

پی ٹی ایس ڈی یا پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر

پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) ایک نفسیاتی حالت ہے جو کسی انتہائی دباؤ یا افسوسناک حالت کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ اس کے لئے ضروری نہیں ہے کہ متاثرہ فرد ذاتی طور پر اس حادثے کا شکار ہو ۔ بعض اوقات یہ صورتحال کسی افسوسناک حادثے کے عینی شاہد کی بھی ہو سکتی ہے ۔

اس کی وجہ سے متاثرہ فرد کو میں بار بار حادثے کا خیال آنا، رات کو ڈراونے خواب آنا ، شدید بے چینی یا نہ رکنے والے خیالات آسکتے ہیں ۔ جن کی وجہ سے بعض اوقات متاثرہ فرد ایسی حرکتیں کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے جو کہ ایک عام نارمل فرد کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ہے ۔

پی ٹی ایس ڈی کو جادو یا جن سمجھنا

عام طور پر جادو کا زیر اثر ہونا یا جن کا آجانا پاکستانی معاشرے میں ان افراد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو کہ ایسی حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں جن کی عقلی دلیل میں کوئی وضاحت نہیں ہوتی ہے ۔ ہمارے معاشرے میں جن کو بھی ایک مخلوق سمجھا جاتا ہے جو کہ بظاہر نظر نہیں آتے ہیں ۔ لیکن عقل کو حیران کرنے والے حرکات کرنے کی طاقت رکھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی انسان ایسی حرکات کرتے ہوئے نظر آتا ہے تو فوری طور پر عام افراد یہ سمجھ لیتے ہیں کہ وہ یہ سب کسی جن یا جادو کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے کر رہا ہے ۔

Get a free assessment of your emotional, behavioral, and psychological well-being — quick, confidential, and completely free!

پی ٹی ایس ڈی کی علامات

عام طور پر کسی شدید نوعیت کے حادثے یا افسوسناک حادثے کی وجہ سے ، انسان جزباتی طور پر ایک ایسے ٹراما میں چلا جاتا ہے جو اس کے خیالات اور محسوسات کو متاثر کرتا ہے ۔ اور اسی نفسیاتی دباؤ کی وجہ سے وہ لاشعوری طور پر کچھ ایسی حرکات کرتا ہے جو کہ عام افراد کو غیر معمولی محسوس ہوتی ہے ۔

پی ٹی ایس ڈی کی علامات عام طور پر کسی بھی افسوسناک حادثے کے پہلے تین مہینوں کے اندر ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں ۔ تاہم یہ دورانیہ حتمی نہیں ہوتا ہے بعض افراد میں یہ علامات ایک سال تک بھی ظاہر نہیں ہوتی ہیں مگر یہ علامات جب بھی ظاہر ہوتی ہیں یہ متاثرہ فرد کی نارمل طرز زندگی کو درہم برہ کر دیتی ہیں ۔ عام طور پر اس کی علامات کی چار اقسام ہوتی ہیں

1۔ بار بار ماضی کو یاد کرنا

اس قسم میں متاثرہ فرد کو بار بار ایسے خیالات آتے ہیں جن کا تعلق ماضی کے اس برے حادثے سے ہوتا ہے ۔ یا پھر نیند میں اس حادثے سے متعلق خواب آنا ، یا پھر اس حادثے کی یاد کی وجہ سے نفسیاتی اور جزباتی دباؤ کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

2۔نظر انداز کرنے کی کوشش

عام طور پر پی ٹی ایس ڈی سے متاثرہ افراد اس حادثے کے ذکر سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ ان تمام لوگوں ، جگہوں یا چیزوں سے دور رہنے کی کوشش کرتے ہیں جن کا تعلق اس حادثے سے ہوتا ہے ۔

3۔ خیالات یا موڈ میں منفی تبدیلی

متاثرہ فرد کے خیالات اور موڈ میں منفی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں جو کچھ اس طرح سے ہوتی ہیں

  • اپنے اور ارد گرد کے لوگوں کے بارے میں منفی خیالات
  • خوف ، الزام ، شرمندگی اور غصے جیسے منفی خیالات و جزبات کے زیر اثر ہونا
  • یاداشت کے مسائل ، جس میں حادثے سے متعلق مختلف اہم واقعات کو بھول جانا
  • خاندان اور دوستوں سے دوری اختیار کر لینا
  • اپنی پسند کی باتوں اور افعال سے غیر دلچسپی اختیار کر لینا
  • کسی بھی مثبت جزبات کو محسوس نہ کرنا
  • بے حسی کی کیفیت کا ہونا

4۔ طبعی اور جزباتی ردعمل میں تبدیلی

  • بے انتہا غصہ اور کسی کی بات کو برداشت نہ کرنا
  • خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش
  • اپنے اردگرد کے ماحول پر حد سے زیادہ نظر رکھنا
  • آ‏سانی سے چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھڑک جانا
  • کسی بھی چیز پر ارتکاز کرنے یا سونے میں دشواری

Also Read :
PTSD: Causes, Symptoms & Treatment

پی ٹی ایس ڈی کی علامات جادو یا جن کے ہونے سے مماثلت کے اسباب

تقریبا 61 سے 80 فیصد تک افراد کو زندگی کے کسی نہ کسی موقع پر حادثے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ مگر ان میں سے صرف 5 سے 10 فیصد افراد ہی میں پی ٹی ایس ڈی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ تاہم اس بات کی کوئی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی حادثے کا ردعمل ہر فرد میں مختلف کیوں ظاہر ہوتا ہے ۔

تحقیقات کے مطابق پی ٹی ایس ڈی سے متاثرہ افراد کے کچھ نیوروٹرانسمیٹر اور ہارمون ایب نارمل ہو جاتے ہیں جو کہ ان کے دماغ میں تبدیلیوں کا سبب بنتے ہیں ۔ جیسے کہ کارٹی سول (اسٹریس ہارمون ) کی سطح کم ہو جاتی ہے اور کورٹیکوٹروپن کی سطح میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ہارمون میں ہونے والی ان تبدیلیوں کی وجہ سے متاثرہ فرد کے روئیے میں ایسی تبدیلی واقع ہوتی ہے جو کہ نارمل انسانوں سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کبھی ایسے افراد کی آواز تبدیل ہو جاتی ہے یا پھر وہ کسی بھی معاملے میں ایسا ردعمل ظاہر کرتے ہیں جو کہ عام حالات سے کافی مختلف ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اکثر افراد ان علامات کی بنیاد پر اس حالت کو نفسیاتی عارضہ سمجھنے کے بجائے جادو یا جن کے آنے سے تعبیر کرتے ہیں ۔

پی ٹی ایس ڈی کی تشخیص وعلاج

اس حالت کی تشخیص کے لئے کوئی خاص ٹیسٹ موجود نہیں ہوتا ہے مگر ماہر سائکاٹرسٹ علامات ، میڈيکل ہسٹری ، ذہنی مسائل کی ہسٹری اور حادثے کے بارے میں آگاہی کے ذریعے اس حالت کی تشخیص کر سکتے ہیں ۔

جس کے بعد ماہر سائکاٹرسٹ اس بیماری کا علاج شروع کرتے ہیں جو کہ سائکوتھراپی اور سی بی ٹی کے ذریعے کیا جاتا ہے ۔ اس حالت کے علاج کے لئے کسی قسم کی ادویات اب تک موجود نہیں ہیں ۔ مگر علامات کی بہتری کے لئے ماہر سائکاٹرسٹ ، اینٹی ڈپریسنٹ، اور اینٹی انزائٹی ادویات تجویز کر سکتے ہیں

خلاصہ

ہر انسان کی زندگی میں کبھی نہ کبھی مختلف قسم کے حادثات یا صدمات آتے رہتے ہیں ۔ جو کہ ان کو ذہنی اور جسمانی دونوں طریقوں سے متاثر کرتے ہیں ۔ مگر ہر انسان ایسی صورتحال میں مختلف انداز میں ردعمل ظاہر کرتا ہے ۔ لیکن کسی حادثے کے بعد اگر ایک ماہ کے بعد کچھ ایسی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جائيں جو کہ عام نارمل حالت سے مختلف ہوں اور ان کا دورانیہ بھی طویل ہو تو ایسی صورتحال میں سب سے بہتر عمل یہ ہے کہ کسی ماہر سائکاٹرسٹ سے رجوع کیا جائے تاکہ علامات کے بگڑنے یا حالت کے پیچیدہ ہونے سے قبل علاج کےلئے اقدامات کئے جا سکیں

صحتیاب آن لائن ماہر سائکاٹرسٹ کا ایسا ہی پلیٹ فارم ہے جہاں پر ذہنی مسائل کے شکار افراد کو آن لائن کاؤنسلنگ فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی سہولت اور آسانی کے مطابق تھراپیز اور علاج کی سہولیات حاصل کر سکیں

حوالہ جات

https://my.clevelandclinic.org/health/diseases/9545-post-traumatic-stress-disorder-ptsd
https://inspiritedminds.org.uk/2015/05/06/misconceptions-black-magic-jinn-possession-part-1