پاکستان کے قیام کو 71 سال کا عرصہ گزر چکا ہے ۔ مگر اب تک بدقسمتی سے نوجوانوں کے لئے جکومت کی جانب سے اور سیاسی پارٹیوں کی جانب سے نعروں اور وعدوں کے علاوہ کوئی خاص حکمت عملی دیکھنے میں نہیں آتی ہے ۔ نہ تو ان کے پاس پیشہ ورانہ تعلیم کی سہولیات میسر ہیں اور نہ ہی نوکری کی ضمانت ۔
اگر کوئی پسماندہ علاقے کا نوجوان اپنے طور پر تعلیم مکمل کر بھی لے تو نوکری کی تلاش اس کو اتنے دھکے کھلاتی ہے کہ وہ مایوسی کا شکار ہو کر آمدنی کے آسان ذرائع ڈھونڈنے لگتا ہے اور ایسے میں اکثر یا تو منشیات کا استعمال شروع کر دیتا ہے یا پھر جرائم پیشہ افراد کے ہاتھوں کھلونا بن جاتا ہے ۔
پاکستان میں نوجوانوں کا تناسب
ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 60 فیصد آبادی30 سال سے کم عمر ہے جو کہ آبادی کا ایک بہت بڑا تناسب ہے لیکن نوجوانوں کی بڑی تعداد ملک کے غیر مستحکم معاشی حالات کی وجہ سے بیروزگاری کی وجہ سے پریشان ہے ۔ ماہرین کا یہ کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے باقاعدہ طور پر کسی قسم کی کاونسلنگ یا رہنمائی کا نظام موجود نہیں ہے جو ان کو ان کے رجحان کے مطابق تعلیم اور اس کے بعد روزگار کے حوالے سے رہنمائی فراہم کر سکے ۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر نوجوان بھیڑ چال کا شکار ہو کر اپنے اردگرد موجود کسی بھی کامیاب فرد کو دیکھ کر وہی ڈگری حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس ڈگری کے حصول کے بعد دفتروں کے چکر لگانے لگتے ہیں تاکہ نوکری حاصل کر سکیں
نوجوانوں پر نوکری کے لئے خاندانی و معاشرتی دباؤ
عام طور پر ہمارے معاشرے میں تعلیم کا حصول صرف اچھی نوکری کو حاصل کرنے کے لئے کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی ڈگری ہاتھ میں آتی ہے سارے خاندان اور خصوصا گھر والوں کی نظریں اس طرف لگ جاتی ہیں کہ اب نوکری اور وہ بھی بہت اچھی والی مل جائے گی ۔ اور اگر اس نوکری کے ملنے میں تاخیر ہو تو اس نوجوان کی ساری قابلیت پر سوالیہ نشان اٹھنے شروع ہو جاتے ہیں
بار بار نوکری کا پوچھنا ، لوگوں کے لئے تو صرف ایک سوال ہوتا ہے مگر یہ سوال نوجوانوں کی ذہنی حالت کو اس حد تک متاثر کر سکتے ہیں کہ وہ نفسیاتی امراض کا شکار ہو کر ساری زندگی کے لئے کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں رہتے اور ڈپریشن اور انزائٹی جیسی بیماریوں کا نہ صرف شکار ہو جاتے ہیں بلکہ بعض اوقات انتہائی صورتوں میں خودکشی جیسا عمل بھی کر گزرتے ہیں
معاشرتی دباؤ کے نفسیاتی اثرات
جب کوئی نوجوان بے روزگار ہوتا ہے تو معاملہ صرف اس کی آمدنی کا نہیں ہوتا ہے بلکہ روزگار نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے دوستوں، پیاروں اور چاہنے والوں کی نظر میں بھی زیرو ہو جاتا ہے ۔ اور معاشرتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے ۔ اس کے اندر احساس کمتری کے ساتھ ، ناکامی کا احساس بھی سرائیت کرنے لگتا ہے ۔ ایسی حالت میں یہ نوجوان انزائٹی ، موڈ کی خرابی اور خودکشی کے خیالات کا شکار ہو سکتے ہیں
نفسیاتی اثرات سے بچنے کے طریقے
کسی بھی انسان کی کامیابی اور ناکامی کا پیمانہ نوکری کا حصول یا بے روزگاری نہیں ہو سکتا ہے ۔ سب سے پہلے ہمارے معاشرے کو اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ روزگار کا ملنا وقت کے ساتھ اور نصیب کے ساتھ ہو سکتا ہے ۔ لہذا اس کے لئے بار بار تقاضا کرنے کے بجائے اس نوجوان کو سپورٹ کریں تاکہ وہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ روزگار کے حصول کے لئے جدوجہد کر سکیں
1۔ کچھ وقت گھر سے باہر گزاریں
صبح سے لے کر شام تک گھر کے اندر بیٹھے رہنے سے گھر والوں کو یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ آپ نوکری کے حصول کے لئے کسی قسم کی جدوجہد نہیں کر رہے ہیں ۔ جب کہ حقیقت میں ماضی کے برعکس حالیہ دور میں نوکری کے لئے آن لائن اپلائی کیا جا سکتا ہے ۔ اسی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ اگر آپ کے پاس نوکری نہیں ہے تو دن کا کچھ وقت گھر سے ضرور باہر گزاریں تاکہ ماحول میں تھوڑی تبدیلی ہو سکے
2۔ روزگار کے لئے صرف نوکری پر انحصار نہ کریں
اکثر افراد روزگار کا مطلب نوکری کو ہی سمجھتے ہیں ۔ جب کہ حقیقت میں آج کل کے دور میں صرف نوکری کے انتظار میں بیٹھے رہنے کے بجائے کسی کاروبار کرنے کے بارے میں سوچنا چاہئے ۔ اگر کسی کاروبار کے لئے سرمایہ نہ ہو تو کسی کام کو سیکھنے کی کوشش اس وقت میں ضرور کر لینی چاہئے تاکہ نہ صرف آنے والے وقت میں کام آسکے بلکہ ذہنی اور جسمانی طور پر مصروفیت میسر آسکے
3۔ اپنا خیال رکھیں
نوکری کا نہ ملنے کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ اس معاشرے میں فالتو ہو گئے ہیں ۔ اپنی قدر کو پہچانیں اوراچھے وقت کے انتظار میں اپنا بہت خیال رکھیں تاکہ صحت مند اور فعال رہ سکیں
4۔ اپنے ذہن کو ایکٹو رکھیں
جس طرح کامیاب زندگی کے لئے انسان کا جسمانی طور پر صحت مند رہنا ضروری ہے اسی طرح ذہنی صحت بھی یکساں اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ بے روزگاری کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اپنی ذہنی صلاحیتوں کو زنگ لگا دیں لہذا اپنے ذہن کو بھی ایکٹو رکھیں اور اپ ٹو ڈیٹ رہیں ۔
5۔ لوگوں کے ساتھ روابط بڑھائيں
بے روزگاری کی وجہ سے لوگوں کی باتیں سننے سے بچنے کے لئے اکثر نوجوان تنہائی کاشکار ہو جاتے ہیں ۔ وہ نئے لوگوں سے ملنے سے ہچکچکاہٹ محسوس کرتے ہیں ۔ مگر حقیقت میں نئے نئے لوگوں سے ملنے سے ایک جانب تو آگاہی حاصل ہوتی ہے اور دوسری جانب کوئی بھی فرد کسی بھی وقت آپ کےکام آسکتا ہے اس وجہ سے کوشش کریں کہ اپنے روابط کو بڑھائيں ۔
6۔ اپنی زندگی کے مقاصد کا تعین کریں
اپنی زندگی کو بے مقصد نہ بنائيں بلکہ زندگی میں چھوٹے چھوٹے ٹارگٹ متعین کریں او پھر اس کے حصول کے لئے محنت کریں ۔ کسی ایک بڑے ٹارگٹ یا نوکری کے حصول کے انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے ٹارگٹس کے لئے کوشش کرتے رہیں تاکہ مصروف رہیں
Also Read :
Impact of Unemployment on Men’s Mental Health
خلاصہ
آج کل کے معاشرے میں تعلیم کا حصول صرف نوکری کی ضمانت کے لئے کیا جانے لگا ہے اور معاشی ناہمواری کی وجہ سے نوکری کے ملنے میں اکثر تاخیر ہو جاتی ہے ۔ ایسے میں صبر کے ساتھ اس کا انتظار کرنے یا نوکری کے علاوہ روزگار کے لئے کاروبار یا کوئی دوسرا کام کرنے کے بجائے اردگرد کے لوگ اس نوجوان پر ایک ایسا دباؤ پیدا کرنے لگتے ہیں جس سے نوجوان ذہنی مسائل کا شکار ہونے لگتے ہیں
ان نوجوانوں کو ایسے دباؤ سے بچانے کے لئے خاندان کے لوگوں کو چاہئے کہ تنقید کے بجائے سپورٹ کرنے کے راستے کو اپنائيں ۔ اسی طرح ان نوجوانوں کو بھی چاہئے کہ وہ ایسی سرگرمیوں میں خود کو مصروف کریں جو کہ ان کی ذہنی صحت کو بہتر بنا سکیں ۔ ان سب کے باوجود بھی اگر نوجوان انزائٹی یا ڈپریشن کا شکار ہونے لگیں تو مایوسی کا شکار ہونے کے بجائے ماہر سائکاٹرسٹ سے کاؤنسلنگ حاصل کریں ۔
- HOW CAREER CONFUSION IMPACTS THE MENTAL HEALTH OF YOUTH IN PAKISTAN - 8 months ago
- بچوں میں ذہنی بیماری کی ابتدائی علامات: والدین کیلئے راہنمائی - 8 months ago
- What is Text Message Therapy? A New Mental Health Solution in Pakistan by SehatYab - 8 months ago
- کیا آپ ذہنی مسائل پر بات کرتے شرماتے ہیں؟ ٹیکسٹ تھراپی آپ کیلئے بہترین ہے - 8 months ago
- PTSD in Children: Impact of Abuse in Madrassas, Schools, and Homes - 8 months ago
- تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کا دباؤ: نوجوانوں کی مایوسی کی وجہ؟ - 8 months ago
- How to Heal After a Breakup in University Life: A University Student Mental Health Guide - 8 months ago
- پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کو جادو یا جن سمجھ لینا: پاکستان میں غلط فہمیاں - 8 months ago
- What is Postpartum Depression? How to Support a Young Mother with Postpartum Depression - 8 months ago
- ڈیلیوری کے بعد ہونے والا ڈپریشن کیا ہے؟ پاکستانی ماؤں کیلئے مکمل رہنمائی - 8 months ago