بچوں میں غصہ اور ضد کو کیسے قابو میں کیا جائے؟

Sehatyab

June 18, 2025

A young Pakistani boy with crossed arms, looking angry and upset.

جس طرح ہنسنا مسکرانا ایک قدرتی عمل ہوتا ہے اسی طرح ناپسندیدہ باتوں پر ناراض ہونا یا غصہ ہونا بھی ایک فطری عمل ہے جو کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کے کسی نہ کسی موقع پر آتا ہے ۔ تاہم اس غصے کو ظاہر کرنے یا اس حالت کو کنٹرول کرنا ایک ایسا عمل ہے جو ہر نارمل انسان کو پتہ ہونا چاہئے ۔ جو کہ انسان وقت کے ساتھ سیکھتا ہے.

بچے جو کہ اپنی عمر کے ابتدائی حصے میں ہوتے ہیں اور سیکھنے کے عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں ان کو اپنے احساسات کے بارے میں ردعمل ظاہر کرنے کا طریقہ سکھانا ان کے والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے ۔ اور اگر بروقت یہ ذمہ داری نہ نبھائی جائے تو وقت کے ساتھ ساتھ بچوں کی بری عادات پختہ ہو جاتی ہیں جن کو تبدیل کرنا بہت دشوار ہو جاتا ہے اور بعض اوقات بچوں کا غصہ ، ضد بدتمیزی کے درجے پر جاپہنچتی ہے اور والدین اور گھر والوں کے لئے نہ صرف باعث شرمندگی ہو جاتی ہے ۔ بلکہ آنے والی زندگی میں بچوں کے لئے بھی دشواری کا سبب بن جاتی ہے ۔

بچے کا غصہ اور ضد اس کے لئے کب نقصان دہ ہو سکتی ہے ؟

بڑے ہوتے بچے جن کی عمر 4 سال یا اس سے زیادہ ہوتی ہے وہ ہفتے میں اگر 9 دفعہ ضد یا غصہ کریں تو اس کو نارمل سمجھا جاتا ہے ۔ اس حالت میں بچہ روتا ہے یا زمین پر بیٹھ کر ایڑیاں رگڑتا ہے یا چیزیں اٹھا کر پھینکتا ہے ۔ اگر یہ حالت 5 سے 10 منٹ میں ختم ہو جائے تو اس حوالے سے زيادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔عام طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بچے جہاں دوسرے جزبات پر کنٹرول کرنا سیکھ لیتا ہے ویسے ہی وہ غصے کو کم کر کے ضد کرنا کم کر دیتا ہے ۔

تاہم اگر یہ فریکونسی ہفتے میں 9 دفعہ سے زیادہ ہو یا اس کا دورانیہ 10 منٹ سے زیادہ ہو تو یہ ایک الارمنگ صورت حال ہو سکتی ہے ۔ جو کہ اگر عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بھی اگر کنٹرول نہ ہو تو یہ وقت گزرنے کے ساتھ ذہنی مسائل کا سب سے بڑا سبب بن سکتا ہے اس وجہ سے اس کو بروقت کنٹرول کرنے کے لئے کسی ماہر سائکاٹرسٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔

Also Read :
Child Anxiety Disorders in Pakistan

بچے غصہ اور ضد کیوں کرتے ہیں ؟

اگر آپ کا بچہ اپنے ہم عمر دوسرے بچوں کے مقابلے میں زيادہ ضد اور غصہ کرتا ہے تو سب سے پہلے آپ کو ان کی وجوہات کے بارے میں جاننا ضروری ہے جو کچھ اس طرح سے ہو سکتی ہیں

  • خاندان کے دوسرے لوگوں کا ایک دوسرے سے غصہ یا جھگڑا کرنا
  • اسکول کے کام یا امتحانات کی وجہ سے ذہنی دباؤ
  • کسی بات یا چیز کو لے کر دباؤ یا خوف کا شکار ہونا
  • بلوغت کے قریب ہارمون میں ہونے والی تبدیلیاں

ان کے علاوہ بھی بہت ساری دیگر وجوہات ہو سکتی ہیں جو کہ کسی بھی بچے کو ضد اور غصے پر مجبور کر سکتی ہیں ۔ جن کے لئے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ والدین نہ صرف ان وجوہات کو سمجھنے کی کوشش کریں بلکہ ایسی حالت میں بچے کی مدد کرتے ہوئے ان جزبات کا سامنا کرنے اور ان کو کنٹرول کرنے میں ان کی مدد کریں

بچوں میں غصے اور ضد کی تشخیص کیسے کی جا سکتی ہے ؟

نوجوان بچوں کو غصے اور ضد کے حوالے سے تشخیص کے لئے نفسیاتی تجزیہ کی مدد لی جا سکتی ہے ۔ جو کہ والدین خود بھی کر سکتے ہیں یا بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ بھی اس کا تجزیہ کر سکتے ہیں ۔ جس کے بعد اگر بچوں میں ضد اور غصہ نارمل حد سے زیادہ ہو تو اس کے لئے ماہر سائکاٹرسٹ ہی اس کی حتمی طور پر تشخیص کر سکتا ہے ۔

جب کسی بچے کے غصے یا ضد کی شدت کا ماہر سائکاٹرسٹ کی طرف سے جائزہ لیا جاتا ہے تو وہ بچے کے روئیے کو اس کی زندگی کے حوالے سے دیکھتے ہیں ۔ جس کو جاننے کے لئے اس کے والدین ، اور اس کے اساتذہ سے معلومات لی جاتی ہے ۔ جس کے ساتھ ساتھ بچے کے تعلیمی رویئے ، اس کی طبی حالت اور رویئے کی بھی جانچ کی جاتی ہے ۔ تاکہ ان وجوہات کا پتہ لگایا جا سکے جو بچے کی جزباتی کیفیت کا باعث بنتے ہیں ۔

Get a free assessment of your child’s emotional, behavioral, and psychological well-being — quick, confidential, and completely free!

بچے میں غصے اور ضد کا علاج

بچے کی تربیت کی سب سے پہلی ذمہ داری اس کے والدین کی ہوتی ہے جو کہ عام طور پر بچوں کی ضد اور غصے کو ختم کرنے کے لئے کچھ اقدامات کر سکتے ہیں جس میں بچے کو خود پر کنٹرول کرنے کی تربیت دینا ، غصے کو کنٹرول کرنے کے لئے غصہ کے استعمال کے بجائے حکمت سے سمجھانا ، بچے کے سامنے چیخنے چلانے سے پرہیز کرنا ، بچے کے دھیان کو کسی دوسری طرف لگا دینا شامل ہیں ۔ تاہم اگر والدین کی تربیت کی یہ کوششیں کامیاب نہ ہوں اور بچے کے غصے اور ضد کی شدت میں اضافہ ہوتا نظر آئے تو اس صورت میں علاج کے لئے ماہر سائکاٹرسٹ ہی بہترین انتخاب ہو سکتے ہیں جو بچے کے علاج کے لئے درج ذیل تدابیر اختیار کر سکتے ہیں ۔

  • کوگنیٹو بیہوریل تھراپی (سی بی ٹی ):اس طریقہ کار کے ذریعے ماہر سائکاٹرسٹ بچے کے رویئے کو تبدیل کرنے پر کام کرتے ہیں ۔ اور ایسی حکمت عملی ترتیب دیتے ہیں جس کے ذریعے بچے غصے کی حالت کو کنٹرول کرنے کے طریقے سیکھتے ہیں اور اپنے روئیے کو بہتر بناتے ہیں
  • جزبات کو کنٹرول کرنا :اس طریقہ کار میں بچے کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ ایسے تمام عوامل سے دور رہنے کی کوشش کریں جو کہ ان کے اندر غصے کو اور ضد کو بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں ۔
  • جزبات اور غصے کے اظہار کے نارمل طریقے :جیسا کہ شروع میں ہی بتایا گیا ہے کہ غصہ آنا ایک نارمل عمل ہے لیکن اس کا اظہار ایب نارمل طریقے سے کرنا اس حالت کو پریشان کن بنا سکتا ہے ۔ بچے اپنی عمر کے ابتدائی حصے میں ہوتے ہیں تو ان کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے غصے کا اظہار ایب نارمل طریقے سے چیخ چلا کر کرنے کے بجائے کسی بہتر طریقے سے بھی کر سکتے ہیں ۔
  • والدین کی تربیت :بچے کے غصے کو کنٹرول کرنے کی سب سے پہلی ذمہ داری والدین کی ہوتی ہے اس وجہ سے یہ سب سے زیادہ ضروری ہوتا ہے کہ والدین کی تربیت کی جائے کہ وہ اپنے بچے کے رویئے کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں ۔ ماہر سائکاٹرسٹ کاونسلنگ اور سیشنز کے ذریعے والدین کو اس بات کی ٹریننگ دیتے ہیں کہ وہ اپنے بچے کی ایسی حالت میں کس طرح سے اس کو متبادل اور مثبت طریقوں سے سنبھال سکتے ہیں اور اس کے رویئے کو تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔

خلاصہ

کچھ ذہنی اور جسمانی حالتیں جیسے کہ انزائٹی ، ڈپریشن یا اے ڈی ایچ ڈی بھی بچے کے اندر غصہ اور ضد کا باعث بن سکتے ہیں ایسی صورتحال میں ماہر سائکا لوجسٹ سی بی ٹی کے ساتھ کچھ ادویات کا استعمال بھی تجویز کر سکتے ہیں ۔ اگر آپ کا بچہ بھی ایسی حالت کا شکار ہو تو دیر نہ کریں بلکہ بروقت مدد اور علاج کے لئے ماہر سائکاٹرسٹ سے رجوع کریں ۔

صحتیاب ذہنی مسائل کے علاج کا ایسا ہی ادارہ ہے جہاں پر ماہر سائکالوجسٹ اور سائکاٹرسٹ ہر طرح کی تھراپیز اور کاونسلنگ آن لائن فراہم کرتے ہیں ۔ یاد رکھیں بچے ہمارے مستقبل کے معمار ہیں ان کے علاج میں تاخیر کے بجائےصرف ایک کلک کے ذریعے مستند اور ماہر افراد سے مشاورت اور مدد حاصل کریں ۔

حوالہ جات

https://www.nhs.uk/mental-health/children-and-young-adults/advice-for-parents/help-your-child-with-anger-issues/
https://www.yalemedicine.org/conditions/anger-issues-in-children-and-teens