بچوں میں ذہنی بیماری کی ابتدائی علامات: والدین کیلئے راہنمائی

Sehatyab

July 14, 2025

A sad boy surrounded by mental health symbols like storm clouds and tangled lines, representing early signs of mental illness in children.

دنیا بھر کے ذہنی صحت کے ماہرین کا یہ ماننا ہے کہ ہمارے بچوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت غیر تشخیص شدہ ذہنی بیماریوں اور نفسیاتی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ۔مگر نفسیاتی مسائل کے حوالے سے لاعلمی کے سبب نہ تو والدین اور نہ ہی اردگرد موجود افراد ان بیماریوں کی سنگینی سے واقف ہیں اور نہ ہی ان کے علاج کے لئے کسی قسم کے اقدامات کرتے ہیں

ذہنی صحت کے ماہرین نے 07 سادہ سی علامات کے ذریعے ایسے مسائل کے حوالے سے والدین، اساتذہ اور بچوں کے ماہر معالج کو ایسی رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی ہے جس کے ذریعے بچوں کے ذہنی مسائل کی نشاندہی ابتدائی عمر ہی میں کی جا سکتی ہے اور ان کے علاج کے لئے بروقت اقدامات کئے جا سکتے ہیں ۔

Get a free assessment of your child’s emotional, behavioral, and psychological well-being — quick, confidential, and completely free!

بچوں میں ذہنی بیماری کی ابتدائی علامات

ذيل میں ایسی 7 ابتدائی علامات کے بارے میں بتایا جارہا ہے جن کی موجودگی بچوں میں ذہنی مسائل کی نشاندہی کرتی ہیں

موڈ میں ہونے والی تبدیلی

بچے عام طور پر چھوٹی چھوٹی باتوں پر خوش ہو جاتے ہیں اسی طرح چھوٹی چھوٹی باتیں بھی ان کو اداس کر سکتی ہیں ۔ لیکن خوشی اور غمی کے یہ احساسات اگر مستقل طور پر دیر تک ہوں یعنی انہیں ان کی پسندیدہ باتیں بھی خوش نہ کر سکیں اور ان کی یہ اداسی ان کے اسکول اور گھر والوں کے ساتھ تعلقات کو متاثر کرئے تو اس حالت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے

انتہائی درجے کی حساسیت

انتہا درجے کا خوف یا اداسی جس کی بظاہر کوئی وجہ ظاہر نہ ہو رہی ہواور اس سے روزمرہ کے افعال متاثر ہو رہے ہوں ۔ ایسی صورت میں آپ کے بچے کے احساسات کا یہ پیٹرن کسی نہ کسی نفسیاتی مسئلے کی نشاندہی بھی ہو سکتا ہے ۔

روئیے میں تبدیلی

عام طور پر بچوں کے رويئے میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے ان کی پسند ناپسند میں تبدیلی یا عمومی عادات میں تبدیلی کا ہونا ایک معمول کی بات ہے ۔ تاہم اچانک روئیے میں ہونے والی بڑی تبدیلی کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کو نوٹ کرنا چاہئے کیو ں کہ یہ تبدیلی کسی نفسیاتی مسئلے کے آغاز کا سبب بھی ہو سکتی ہے ۔

ارتکاز کرنے میں دشواری

اگر آپ کا بچہ پڑھائی یا کسی اور بات پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری محسوس کرتا ہو، یا وہ کسی ایک جگہ ٹک کر بیٹھتا نہ ہو ، یا پھر اس کو پڑھائی میں دشواری کا سامنا ہو سبق یاد کرنے میں مشکل ہو تو ایسی صورتحال میں اپنے بچے کے اس مسئلے کے حوالے سے کسی ماہر سائکاٹرسٹ سے ضرور رابطہ کریں ۔ کیوں کہ یہ علامات کسی نفسیاتی تکلیف کا باعث ہو سکتا ہے ۔

جسمانی علامات

بالغ افراد کے مقابلے میں ایسے بچے جن میں نفسیاتی مسائل ہوں ان میں نفسیاتی مسائل کے ساتھ ساتھ سر درد اور پیٹ درد اور دیگر جسمانی مسائل بھی ہو سکتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بچے اپنی انزائٹی اور ڈپریشن کی حالت کو ظاہر نہیں کر سکتے جس کا اثر اس کی جسمانی حالت پر بھی پڑتا ہے ۔

خود کو اور دوسروں کو نقصان پہنچانا

نفسیاتی مسائل کے شکار بچے جسمانی تشدد کے حوالے سے بھی بہت انتہا پسند ہوتے ہیں ایسی صورتحال میں کسی بھی ناپسندیدہ صورتحال میں وہ نہ صرف خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ سامنے والے کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

کھانے پینے کی عادات میں بے اعتدالی

عام طور پر بچے کھانے پینے میں پسند نا پسند کی وجہ سے ضد کرتے ہیں لیکن یہ ضد اگر چیزوں کو پھینکنے اور حد سے زيادہ چڑچڑے پن کو ظاہر کر رہا ہو تو اس معاملے کو نظر انداز کرنے کے بجائے اس پر غور کرنا چاہئے

Also Read :
Children’s Mental Health in Pakistan

بچوں کی ذہنی بیماری کے حوالے سے والدین کی غلط فہمی

عام طور پر بچوں کی ذہنی بیماریوں کو والدین سمجھنے کے بجائے کسی نہ کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر اس حالت کو بچوں کی ضد یا جسمانی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں جس کی وجہ سے ایسی حالت کی نہ تو بروقت تشخیص ہو سکتی ہے اور نہ علاج ہو سکتا ہے یہ غلط فہمیاں کچھ اس طرح سے ہو سکتی ہیں

ذہنی بیماری بچے کی ساری زندگی کو برباد کر دے گی

کسی ذہنی بیماری کا قطعی یہ مطلب نہیں ہوتا ہے کہ یہ بیماری بچے کی ساری زندگی کو برباد کر سکتی ہے ۔ بلکہ بروقت علاج اور تشخیص کے ذریعے بچے کو نارمل زندگی گزارنے کے لائق بنایا جا سکتا ہے

ذہنی بیماری کا مطلب والدین کی بری تربیت

عام طور پر ذہنی امراض کے شکار بچوں کی انزائٹی اور ضد کو دیکھتے ہوئے اس کی حالت کو سمجھنے کے بجائے دیکھنے والے اس کو والدین کی بری تربیت سے مامور کرتے ہیں

ذہنی بیماری وقت کے ساتھ ٹھیک ہو جائے گی

سب سے پہلے تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ذہنی بیماری اور بچے کی عمومی ضد اور چڑچڑے پن میں فرق ہوتا ہے ۔ عام طور پر بچپن کی ضد تو وقت کے ساتھ بچے کی تربیت سے درست ہو جاتی ہے لیکن اگر بچہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہے تو اس کے لئے باقاعدہ علاج کے بغیر اس کو ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ہے

بچوں پر سائکو تھراپی اثر نہیں کرتی ہے

بچے بھی ذہنی امراض کی صورت میں سائکوتھراپی سے علامات میں بہتری محسوس کر سکتے ہیں اور بالغ افراد کے برعکس بچوں میں سائکوتھراپی کے لئے کوگنیٹو بیہیوریل تھراپی کا استعمال کیا جاتا ہے جس سے ان کے روئيے کو بہتر بنایا جا سکتا ہے

 

بچوں میں ذہنی بیماری کی تشخیص

اگر کسی بچے کے روئيے اور جزباتی احساسات میں تبدیلی ظاہر ہو رہی ہو تو والدین کو اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ اس حالت کی تشخیص کسی خون کے ٹیسٹ یا اسکین سے کرنا ممکن نہیں ہوتا ہے ۔ یہاں یہ بھی ایک اہم امر ہے کہ بچہ اپنی ذہنی تکلیف کا اظہار بڑوں کی طرح نہیں کر سکتا ہے اس وجہ سے ان کی تکلیف کی شناخت علامات کے بغور مشاہدے سے ہی ممکن ہے

اس وجہ سے موثر تشخیص کے لئے یہ ضروری ہے کہ کسی ماہر سائگاٹرسٹ سے بچے کی موثر تشخیص کروائی جائے جو اپنے تجربے اور مہارت کے ذریعے علامات کو دیکھ کر بچے کی ذہنی بیماری کی تشخیص کر سکتا ہے ۔ جو کہ بچے کے روئيے کا مشاہدہ کر کے ان علامات کے اسباب کی نشاندہی کر سکتا ہے ۔

جیسے کہ اگر کوئی بچہ بہت زیادہ غصہ کر رہا ہو یا بے چین ہو تو اس کو انزائٹی کی بیماری ہو یا اگر کسی بچے کو اسکول کی پڑھائی میں توجہ مرکوز کرنے میں دشواری کا سامنا ہو تو ہو سکتا ہے کہ وہ اے ڈی ایچ ڈی کے مسائل کا سامنا کر رہا ہو تاہم ان تمام مسائل کی درست تشخیص کے لئے کسی ماہر سائکاٹرسٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے

خلاصہ

ہمارے بچے ہماری تمام تر محبتوں اور توجہ کے حقدار ہوتے ہیں ان کی معمولی سی تکلیف بھی والدین کو حد درجے پریشان کر دیتی ہیں ۔ مگر بعض اوقات والدین بچوں کی تکالیف کے حقیقی اسباب کو اپنی لاعلمی کی وجہ سے درست طور پر تشخیص نہیں کر سکتے ہیں جس کی وجہ سے بروقت تشخیص نہ ہو سکتی اور علاج میں تاخیر علامات کو خراب کرنے کا سبب بنتی ہیں کیوں کہ ذہنی بیماری جسمانی بیماری کی طرح نہیں ہوتی ہے جس کی تشخیص کسی خون کے ٹیسٹ یا اسکین سے کروائی جا سکے

اس وجہ سے کسی بھی ذہنی بیماری کی اوپر بیان کی گئی علامات کی صورت میں ماہر سائکاٹرسٹ سے رجوع کرنا ضروری ہوتا ہے جو کہ درست تشخیص کر کے بروقت علاج کے سلسلے کا آ غاز کر سکے ۔ صحتیاب آن لائن سائکاٹرسٹ کا ایسا ہی ادارہ ہے جو کہ آن لائن کاونسلنگ اور ذہنی بیماریوں کی تشخیص کرتے ہیں اور ذہنی بیماریوں کے مریضوں کو بہترین علاج فراہم کرتے ہیں