پوسٹ پارٹم ڈپریشن یا ڈیلیوری کے بعد ہونے والا ڈپریشن
پرسٹ پارٹم ڈپریشن ڈپریشن کی ایک قسم ہے جس کا سامنا اکثر زچہ خواتین کو ہو سکتا ہے ۔ عام طور پر ہر عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد معمولی درجے کے ڈپریشن کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ جس کی علامات بچے کی پیدائش کے چالیس دن کے اندر ختم بھی ہو جاتی ہیں ۔تاہم اگر یہ علامات زچگی کے بعد کئی ماہ تک موجود رہیں تو یہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن کہلاتی ہیں ۔
یہ ایک سنگین نوعیت کی بیماری ہوتی ہے جس میں متاثرہ خاتون اداسی ، مایوسی اور اور کم مائیگی کے محسوسات کا شکار ہو جاتی ہیں ۔ ان احساسات کی وجہ سے ماں اپنے بچے کے ساتھ وہ تعلق بنانے میں ناکام رہتی ہے جو کہ اس کی ممتا کا تقاضا ہوتی ہے ۔
پاکستان میں خواتین میں ڈیلیوری کے بعد ہونے والا ڈپریشن
پاکستان کی خواتین میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک بہت ہی عام حالت ہے جس کے پھیلاؤ کی شرح 28فیصد سے 63فیصد تک ہوتی ہے جو کہ ایشیا میں سب سے زیادہ ہے ۔ پاکستان میں اس پھیلاؤ کی بلند شرح کی بنیادی وجوہات میں ماحول ، سماجی و معاشرتی عوامل شامل ہیں پاکستان میں اس کے پھیلاؤ کی حقیقی شرح کا تعین کرنا بہت دشوار ہے کیوں کہ معاشرتی رسوم و رواج کی وجہ سے ایسے زیادہ تر کیسز معالج تک پہنچتے ہی نہیں ہیں کہ ان کی درست طریقے سے تشخیص ہو سکے ۔
پاکستان میں پوسٹ پارٹم ڈپریشن کے اسباب
بنیادی طور پر خواتین میں ڈیلیوری کے بعد ہونے والے ڈپریشن کی بنیادی وجہ ہارمونز میں ہونے والی وہ تبدیلی ہے جو دوران حمل اور زچگی کے درمیان ہوتی ہیں ۔ مگر بعض اوقات کے کچھ دیگر عوامل بھی اس میں کارفرما ہو سکتے ہیں جو کچھ اس طرح سے ہوتے ہیں
- حمل کا ضائع ہونا یا بچے کا زندہ نہ ہونا
- ڈپریشن یا بائی پولر ڈس آرڈر یا پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی ہسٹری
- بیمار بچے کی پیدائش جو کہ بہت زیادہ روتا ہو
- معاشی یا گھریلو حالات کی وجہ سے ہونے والا نفسیاتی دباؤ
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی علامات
اس کی علامات ہلکی نوعیت سے شدید نوعیت کی ہو سکتی ہیں اور ہر مریض میں مختلف بھی ہو سکتی ہیں ۔ تاہم کچھ عمومی علامات اس طرح سے ہو سکتی ہیں
- موڈ میں تیزی سے تبدیلی
- بے چینی
- اداسی
- جھنجھلاہٹ
- جزباتی پن
- بار بار رونے کا دل چاہنا
- ارتکاز میں کمی
- بھوک کے مسائل
- نیند میں دشواری
اس کی علامات کا دورانیہ دو ماہ سے زيادہ ہو سکتا ہے ۔ جس کی وجہ سے زچہ اپنے بچے کی دیکھ بھال کرنے کے قابل نہیں رہتی ہے اور روزمرہ کے کاموں کو نہیں کر سکتی ہے ۔ اس کی علامات بچے کی پیدائش کے ابتدائی چند ہفتوں کے بعد ہی سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں
ان علامات کے علاوہ بعض اوقات علامات کی شدت ہونے کی صورت میں زچہ کو خود کو اور اپنے بچے کو نقصان پہنچانے کا خیال بھی آسکتا ہے اور وہ خودکشی کی کوشش بھی کر سکتی ہے ۔
Also Read :
Postpartum Depression – پوسٹ پارٹم ڈپریشن ، علامات و علاج
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی تشخیص
بچے کی پیدائش کے بعد ہارمونز میں ہونے والی تبدیلی کی وجہ سے زچہ کے موڈ اور نفسیات پر اثرات ہونا ایک عام عمل ہے جس کو بے بی بلیوز بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی علامات اور پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی علامات کم و بیش ایک ہی جیسی ہوتی ہیں ۔ لیکن بے بی بلیوز کی علامات کی شدت اور دورانیہ دس دن یا اس سے کم ہی ہوتا ہے ۔ لیکن پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا دورانیہ کئی ہفتوں تک یا بعض اوقات مہینوں تک بھی ہو سکتا ہے ۔
چونکہ پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک نفسیاتی حالت ہے جو کہ طبی اثرات کی وجہ سے لاحق ہوتی ہے تو اوپر بیان کی گئی علامات کا دورانیہ اگر دس دن سے زیادہ اور شدت بھی شدید ہو تو اس صورت میں فوری طور پر ماہر سائکاٹرسٹ سے رجوع کرنا چاہئے تاکہ وہ علامات کی بنیاد پر پوسٹ پارٹم کی تشخیص کر کے اس کا بروقت علاج شروع کر سکیں
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا دورانیہ
عام طور پر پوسٹ پارٹم ڈپریشن بچے کی پیدائش کے ایک سال بعد تک ہو سکتا ہے ۔ لیکن یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے کہ صرف ایک سال میں اس کا مکمل طور پر علاج ہو جائے ۔ لہذا یہ ضروری ہے کہ اپنی علامات کے حوالے سے اپنے ماہر سائکاٹرسٹ سے رجوع کریں ۔ تاکہ علاج کے ذریعے علامات کو بہتر بنایا جاسکے ۔
پاکستان میں ڈیلیوری کے بعد ہونے والے ڈپریشن کے بنیادی عوامل
زیادہ تر پاکستانی گھرانوں میں جوائنٹ فیملی سسٹم ہوتا ہے جو کچھ حوالوں سے فائدہ مند ہوتا ہے کہ گھر کے بزرگ زچہ اوربچہ کی صحت کے حوالے سے دیکھ بھال کرتے ہیں ۔ مگر ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا ہے کیوں گہ بعض گھرانوں میں زچہ مشترکہ خاندانی نظام ایک معاشرتی دباؤ کا سبب بھی بن جاتا ہے ۔
ایسے حالات میں جب کہ زچہ پہلے ہی بے بی بلیوز کا سامنا کر رہی ہوتی ہے اس وقت میں اردگرد کے لوگوں کی تنقید اور باتیں اس کی پریشانی کو مزید بھی بڑھا دیتی ہے ۔ اس طرح جسمانی بیماری کے ساتھ ساتھ نفسیاتی دباؤ زچہ کو ڈپریشن کی طرف لے جاتا ہے
اس کے علاوہ ہمارے معاشرے میں کم عمری کی شادی بھی ایک ایسا پہلو ہے جس کی وجہ سے اکثر مائيں 20 سال سے کم عمر کی ہوتی ہیں ۔ اتنی کم عمری میں ایک بچے کی ذمہ داری ماں کو نفسیاتی دباؤ کا شکار کر دیتی ہے جس کی وجہ سے پوسٹ پارٹم ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے امکانات میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔
پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا علاج
اس حالت کا علاج اس کی علامات کی شدت کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ چونکہ یہ ایک نفسیاتی حالت ہے اس وجہ سے اس کے علاج کے لئے بھی ماہر سائکاٹرسٹ یا ماہر سائکالوجسٹ کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ علاج کے لئے اینٹی انزائٹی یا اینٹی ڈپریشن ادویات ، سائکوتھراپی اور مختلف سپورٹ گروپس کے ذریعے متاثرہ فرد کا علاج تجویز کر سکتے ہیں
علامات کی شدت کی صورت میں متاثرہ فرد کو ہسپتال میں داخل بھی رہنا پڑ سکتا ہے ۔ اگر ادویات ، سائکوتھراپی کے ذریعے علاج موثر نہ ہو تو معالج الیکٹروکونولسیو تھراپی (ای سی ٹی ) بھی تجویز کر سکتے ہیں ۔ دودھ پلانے والی مائیں بھی پوسٹ پارٹم ڈپریشن کی صورت میں محفوظ ادویات کا استعمال اپنے معالج کے مشورے سے کر سکتی ہیں
خلاصہ
بچے کی پیدائش ایک جانب تو ماں کو جسمانی طور پر کمزور کر دیتی ہے اسی طرح اس میں نفسیاتی اور جزباتی طور پر متغیر کر سکتی ہے ۔ ایسی صورت حال میں قریبی افراد کو اس کی دیکھ بھال خصوصی طور پر کرنی چاہئے ۔ اگر وہ تنہا ئی اختیار کر لے یا نارمل حالت سے زيادہ گم سم ، اداس یا غصے کا شکار ہو تو اس کی حالت کو سمجھتے ہوئے اس سے بات کرنے کی کوشش کریں ۔
زچہ کے کھانے پینے ،نیند کا خیال رکھیں ۔عام طور میں زچہ کو ہمارے معاشرے میں 40 دن کے لئے ایک خاص جگہ تک محدود کر دیا جاتا ہے اور اس کے میل جول پر بھی پابندی لگا دی جاتی ہے جو کہ اس کی نفسیاتی حالت کو ابتر بھی کر سکتی ہیں ۔زچہ کے کام کاج میں اور بچے کو سنبھالنے میں اس کی مدد کریں اور اگر اس میں اوپر بیان کی گئی علامات دیکھیں تو فوری طور پر ماہر سائکاٹرسٹ سے رجوع کریں
پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک نفسیاتی حالت ہے یہ کسی بھوت پریت کی وجہ سے نہیں ہوتی ہے اس وجہ سے توہم پرستی کا شکار ہونے کے بجائے علاج کی طرف توجہ دینی چاہئے ۔
پوسٹ پارٹم ڈپریشن ایک نفسیاتی حالت ہے یہ صحتیاب آن لائن سائکاٹرسٹ کا ایسا ہی پلیٹ فارم ہے جن سے گھر بیٹھے صرف ایک کلک کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ ان سے علاج کی سہولت حاصل کرنے کے لئے کسی بھی کلینک میں جانے کے بجائے ، ماہر سائکاٹرسٹ سے سے ویڈيو کال کے ذریعے رابطہ کیا جاتا ہے اور علاج شروع کروایا جا سکتا ہے
حوالہ جات
https://my.clevelandclinic.org/health/diseases/9312-postpartum-depression
https://www.mdpi.com/2079-9721/11/2/53
- HOW CAREER CONFUSION IMPACTS THE MENTAL HEALTH OF YOUTH IN PAKISTAN - 8 months ago
- بچوں میں ذہنی بیماری کی ابتدائی علامات: والدین کیلئے راہنمائی - 8 months ago
- What is Text Message Therapy? A New Mental Health Solution in Pakistan by SehatYab - 8 months ago
- کیا آپ ذہنی مسائل پر بات کرتے شرماتے ہیں؟ ٹیکسٹ تھراپی آپ کیلئے بہترین ہے - 8 months ago
- PTSD in Children: Impact of Abuse in Madrassas, Schools, and Homes - 8 months ago
- تعلیم مکمل کرنے کے بعد نوکری کا دباؤ: نوجوانوں کی مایوسی کی وجہ؟ - 8 months ago
- How to Heal After a Breakup in University Life: A University Student Mental Health Guide - 8 months ago
- پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر کو جادو یا جن سمجھ لینا: پاکستان میں غلط فہمیاں - 8 months ago
- What is Postpartum Depression? How to Support a Young Mother with Postpartum Depression - 8 months ago
- ڈیلیوری کے بعد ہونے والا ڈپریشن کیا ہے؟ پاکستانی ماؤں کیلئے مکمل رہنمائی - 8 months ago